Friday, 21 November 2014

سدھن VS مسلم وار

تحریر :: سردار محمد خورشید انور
یہ P C کیا هے؟ اس نے اس آزاد خطہ میں دهشت کیوں پهلائی تهی؟ اس نے نہتے کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ کیوں 
بنایا تها؟؟؟
ه"""""""""""""""
4 اکتوبر 1947. کو دنیا کی قدیم ترین ریاست کشمیر جس پر کبهی هندو کبهی ڈوگروں کبهی مسلم کبهی سکهوں کا تسلط رها.
اس کا ایک چهوٹا سا ٹکڑا 4000/ 85000 مربع میل خطہ آذاد کشمیر کے نام سے آزاد کروایا. قیادت سردار ابراهیم نے کی اور بقول انکے وه پاکستانی قیادت کے پاس گئےکہ کچھ اسلحہ وغیره کی امداد کی جائے تو کوئی جرنیل تهے انہوں نے کہا هم خود مشکل میں ہیں اور مزید کہا میرا بس چلے تو ایک توپ کے دهانے کے سامنے کهڑا کرکے اڑا دوں تم کشمیریوں نے بهی آج هی یہ پهڈا کهڑا کرنا تها؟
سردار صاحب پهر سرحدی خان قیوم کے پاس گئےرائیفلیں لیں اور جنگ آزادی صرف کشمیروں نے لڑی تن تنہا۔
سردار صاحب مسلہ کشمیر لے کر اقوام متحده گئےوہاں کیا هوا؟ واپس آئےاپنے آزاد کروائے هوئے ملک میں صرف 22 دن آزاد و خود مختار رهنے والے ملک میں 26 اکتوبر کو پاکستان نے اپنی افواج اتار دیں وهی پاکستان جو کہہ رها تها بس چلے تو توپ کے دهانے کے سامنے رکھ کر اڑا دوں. اس آزاد ملک میں افواج کیوں اتار رها تھا ؟
اس کو جواز بنا کر بهارت نے 27 اکتوبر کو اپنی افواج اتار دیں.
پهر یہ معاہدات کی صورت کشمیریوں کے پاوں میں زنجیریں کیوں پہنائی گیں اس کو پاکستانی وڈیروں کی جاگیر کیوں بنایا گیا ؟
تشنہ طلب هے !
ہیی توپ کے دهانےکے سامنے کشمیریوں کو کهڑا کرنے والوں نے ایک اورسازش کی ادهموئی آزادی بهی ان سے هضم نہیں هوئی کشمیریوں کو بے بس اور غلام بنانے کی شعوری کوشش دیکهئے.ستمبر 1956 کو نہ معلوم وجوهات کے تحت کشمیریوں کو Disarm نہتا کرنے کیلئے آذاد خطہ پر فوج کشی کر دی گئی پاکستان ریگولر فورسیز پنجاب رجمنٹ کو منگ سیکٹر میں بیجها گیا۔
PC یعنی پنجاب کنسٹیبلری ایک فاتح افواج کی طرح داخل هویں مکئی کی کهڑی فصلیں تباه کر ڈالیں چهلیاں پکوا پکوا کر کهاہیں چادر اور چار دیواری کا تقدس مجروح کیابوڑهوں جوانوں کو گهسیٹ گهسیٹ کر مارا گیا هتهیار جمع کئےشک کی بنیاد پر مارا پیٹا گیا بد ترین تشدد کیا گیا هندووں کے خلاف بہادری جوانمردی سے لڑنے والے حیران تهے سہمے هوئے تهے حراساں تهے یہ کیا هو رها هے کس جرم کی سزا مل رهی هے. ہمیں نہتا کیوں کیا جا رها هے.
کیا پاکستان سمجهتا هے هم خود مختاری کی طرف جا سکتے ہیں ؟ اس کی پری پلانگ تهی ان لوگوں کو غلام رکهنا هے. ان سے هتهیار چهیننے ہیں ان سے آزادی چهینی هے ان سے حق خوداریت چهیننا هے ان کا ضمیر خریدنا هے ان کی انا خودداری سب سلب کرنا هے ؟
PC کیوں آئی تهی کشمیریوں کو Disarm کیوں کیا گیا تها ؟ بے گناہ نہتے کشمیریوں پر تشدد کیوں هوا تها ۔۔۔ ؟؟
پاکستان کی پارلیمنٹ قرار داد کے ذریعے کشمیریوں سے معافی مانگیں. آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اپنے اجلاس میں مشترک قرارداد منظور کرے کہ پاکستانی حکومت PC سے کشمیریوں پر ظلم کرنےاور توهین کرنے تشدد کرنےپر معافی مانگیں۔
هم بهولے نہیں هماری بوڑھی عورتیں اور مرد آن بهی حوالہ دیتے ہیں "یہ واقعہ اس وقت کا هے جب p C آئی تهی" PC کیوں آئی تهی؟ 

نوٹ:: سدھن لاریئٹ اور پیج پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ 


اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنے مکمل نام اور مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ ہمارے پیج انباکس میں بھیج دیبلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔ 

Thursday, 20 November 2014

میری آزادی کس نے مسخ کی......؟


تحریر:: عرفان پاشا        //         20/11/14

چی گویرا زندہ رہتا تو معلوم نہیں کتنے انقلاب لاتا...کشمیرمیں جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے وہ انسانی وصف پیدا نہیں کرتا لیکن ذہنوں میں لالچ گھسیڑدیتا ہے آگےبڑھنے کی ،دولت کی پوجا کرنے کی اور پھراسی بے ڈنگی دولت سے دماغ میں سرفروشی کا سمندر جنم لیتا ہے اور یہی سمندر پھر کشمیریوں کو نفسانی خواہشات میں مبتلا کر کے زبان پر خاموشی کے تالے لگا دیتا ہے .....کبھی کبھی آزادی کی چاپ سنائی دیتی ہے اس چاپ میں مختلف رنگ کی موسیقی بھی سنائی دیتی ہے جو کبھی کبھی کانوں کو بہت سرور دیتی ہے وہ موسیقی قوم پرستی کی ہوتی ہے ،خودداری اور ایک الگ وطن کی ہوتی ہے یہاں میں پھر چی گویرا کی بات دوہراؤں گا اس نے کہا تھا " انقلاب ردِانقلاب کو زیادہ تیزی سے تیار کرتا ہے”… انڈیا اور پاکستان دونوں کے پاس بے شمار وسائل ہیں اور اسکے بدلے ہمارے پاس کیا ہے ... ایک ٹوٹا پھوٹا جذبہ ، تفرقوں میں بٹی ہوئی قوم ، اور نیم تعلیم یافتہ محدود سوچ رکھنے والے لوگ انکے پاس قید کرنے ،قتل کرنے اور غائب کرنے کا انٹرنیشنل سرٹیفکیٹ ہے اور ہم پر پابندیوں کی ایک لمبی چوڑی لسٹ - جو قوم کو آزادی کا درس دے رہے ہیں وہ بھی انہی کی گود میں بیٹھے ہیں کے چلو جب ماریں گے تو کم سے کم چھاؤں میں تو پھینکیں گے ...!

اندر کی بات ہے دیر سے سمجھ آتی ہے جو لوگ انڈیا اور پاکستان کی گود میں بیٹھ کر خودمختاری کے نعرے لگا رہے ہیں انکو ایک ٹاسک دیا گیا ہے اور وہ ٹاسک ہے کشمیری نوجوان ،انکے سر پر آزادی کا لال جھنڈا باندھو انہیں راہ فرار پر مجبور کرو انکے ہاتھ سے قلم چھین کر بندوق تھماؤ اور انکے ماتھے پر آتنک وادی کا کلانک لگا دو ..! ایک سروے کے مطابق آزاد کشمیر میں قوم پرست جماعتوںسے تعلق رکھنے والے صرف %٥ نوجوان اپنی تعلیم مکمل کر پاتے ہیں باقی % ٩٥ نوجوان اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے پھر گھریلو مشکلات ، مالی ذمداریاں اور زندگی میں ایڈجسٹمنٹ کے نام پر خلیجی ممالک ،یورپ اور دوسرے ملکوں کا رخ کرتے ہیں جو نوجوان یورپ کا رخ کرتے ہیں وہ وہاں جا کر مختلف گروپس کو جوائن کرتے ہیں وہ بھی اسی ملک کی نیشنلٹی کے حصول کے لئے اس سارے سنیریو میں آزادی کشمیر کی تحریک اور اسکی ساکھ کا کیا وجود رہ جاتا ہے ...؟ 
اب اس مسلے کا حل کیا ہے ....؟
ہم کشمیریوں میں اجتماہی فکر اب بھی کم ہے۔ باقی دنیا میں بھی ایسا ہے لیکن ہم میں یہ مرض خاصا زیادہ ہے۔ ذاتی اور قبائلی دونوں سطح پر.. قومی رہبری کے لیے زیادہ مستحکم اپروچ درکار ہے۔ ہمیں اپنی سٹرٹجی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے نہیں تو اگر ہم یہ مانتے ہیں کے ابدالی، بابراور جناح ہماری شناخت نہیں یہاں تک کہ مسلمان بھی ہماری شناخت نہیں تو پھر ہمیں اپنی شناخت ظاہر کرنی ہو گی .... اگر ہم نے اپنی شناخت ظاہر نہ کی تو ہم بھکاری ہوں گے۔ جھاڑو دینے والے، موٹر دھونے والے، ہوٹلوں میں برتن دھونے والے ہوں گے اور ٹیبل پر بیٹھ کر کھانے والا کوئی اور ہوگا .....اُبھار تو بڑا ہے، راء میٹریل (raw material) بھی دستیاب ہے۔ بس اس میٹریل کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے ورنہ گمنامی کے لئے تیار رہیئے ....


نوٹ:: سدھن لاریئٹ اور پیج پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ 
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنے   مکمل نام  اور
مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ ہمارے پیج انباکس میں بھیج دیں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

Wednesday, 14 May 2014

خدایا ! حلالیوں کی ستائی ہر ماں کو ایسا حرامی بھی عطا فرما۔آمین۔


اس کہانی کا آخری جملہ والدین کے نافرمان/بےقدروں کے لیے زناٹے دار طمانچہ ہے

Source: http://www.express.pk/story/253579/

حسن سپروائزر کا یہ ایس ایم ایس پڑھتے ہی میرے دل سے گویا ایک بھاری پتھر ہٹ گیا کہ تمہاری عجیب النسا آج فجر کے بعد چل بسیں۔


یو نو وٹ۔۔۔اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ وہ کونسا پروجیکٹ ہے جس میں کسی بھی دوسرے پروجیکٹ سے زیادہ وقت، وسائل، محنت، توانائی اور تربیت کے باوجود منافع کا امکان سب سے کم اور خسارے کا امکان سب سے زیادہ ہے۔اس کے باوجود سب سے زیادہ لوگ اسی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں ؟ اولاد۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب النسا کی تدفین کے بعد میں اور حسن سپروائزر آمنے سامنے کی دو پرانی قبروں سے گاؤ تکیے کی طرح ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔میری سوالوں بھری آنکھوں سے ٹپکتے تجسس کو حسن سپروائزر کی خفیف سی ٹیڑھی بائیں آنکھ نے لپک لیا۔



’’ بیٹا بس کیا بتاؤں ؟ جائے نماز سے اٹھتے ہی کہنے لگیں، نیند آرہی ہےکوئی ڈسٹرب نہ کرے۔آدھے گھنٹے بعد اٹھا دینا۔میں نے آہستہ سے ان کے کمرے کے کواڑ بھیڑدیے۔پینتیس چالیس منٹ بعد یاد آیا تواندر جھانکا۔ تب تک بڑی بی نکل چکی تھیں۔ برس ہا برس دن رات دیکھنے کی وجہ سے مجھے شائد ان کی عادت ہوگئی تھی اس لیے ابھی خالی خالی سا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔‘‘


کل ہی کی تو بات ہے کہ گیارہ مئی انیس سو ستاسی کو عجیب النسا کا اکلوتا بیٹا خالد انھیں یہاں جمع کرا گیا تھا۔ (میں نے آج تک خالد کا صرف نام ہی سنا ہے)۔ بقول حسن سپروائزر عجیب النسا کو یہاں داخل کرانے کے بعد خالد پہلی اور آخری دفعہ ٹھیک ایک سال بعد گیارہ مئی انیس سو اٹھاسی کو ماں سے ملنے آیا تو اس نے دور سے تمہیں (یعنی مجھے ) عجیب النسا کی گود میں دیکھا اور پھر وہ اپنی ماں کے لیے جو تین جوڑے لایا تھا میرے ( یعنی حسن سپروائزر) حوالے کرکے بنا ملے ہی چلا گیا اور پھر نہیں پلٹا۔


لگ بھگ چھ سال بعد بس ایک مرتبہ خالد کا خط ڈاک سے آیا۔ جب حسن سپروائزر نے وہ خط عجیب النسا کو لا کر دیا تومیں انھی کی گود میں سر رکھے بخار میں پھک رہا تھا۔مجھے عجیب النسا کی آنکھیں کبھی نہیں بھول سکتیں جو لفافے پر لکھائی دیکھتے ہی لہلہلا اٹھی تھیں۔پر جیسے جیسے وہ سطر در سطر خط میں اترتی گئیں ، چہرہ بھی پیاسی زمین سا چٹختا چلا گیا۔


اب جب کہ عجیب النسا مرچکی ہیں تو بتانے میں کوئی حرج نہیں کہ اس دن جب وہ کمرے سے باہر آرام کرسی پر بیٹھی دھوپ سینک رہی تھیں تو میں نے وہ خط ان کے تکیے کے نیچے سے نکال کر بڑی مشکل سے ہجے کر کر کے اتنا ضرور سمجھ لیا جتنا ایک چھ ساڑھے چھ سال کا چوری پکڑے جانے کے خوف سے گھبرایا بچہ سمجھ سکتا ہے۔اسلام آباد ، اسکیل اٹھارہ، نوشین، شادی، بابا، فیکٹری، عمرہ، بہت مصروف ہوں ، بچہ کس کا ہے ؟؟ بس خط کی یہی کچھ باتیں مجھے یاد ہیں۔اگلے دن جب عجیب النسا کمرے سے باہر بیٹھی حسبِ معمول دھوپ سینک رہی تھیں تو میں نے پورا خط تسلی سے پڑھنے کے لیے دوبارہ ان کے تکیے کے نیچے ہاتھ مارا مگر وہ وہاں نہیں تھا۔


ارے کہیں آپ یہ تو نہیں سمجھ رہے کہ عجیب النسا سے میرا کوئی براہ راست رشتہ ہے ؟؟؟ نہیں نئیں نئیں۔۔۔حسن سپروائزر کو بھی بس اتنا معلوم ہے کہ مجھے کوئی باہر رکھے پنگھوڑے میں منہ اندھیرے ڈال گیا تھا اور عجیب النسا نے یہ کہہ کر میرا چھوٹا سا بستر اپنے کمرے میں لگوا لیا کہ دل بہلا رہے گا۔


وہ بتاتی رہتی تھیں کہ جب میں بولنے کے قابل ہوا تو اپنے ننھے ننھے پیروں سے سے ان کا چہرہ ٹٹولتے ہوئے کہتا تھا ادیب ان نت آ۔۔۔۔ اور وہ مجھ سے بار بار کہلواتی تھیں ادیب ان نت آ۔۔۔۔انھیں یہ اتنا اچھا لگا کہ جب تک زندہ رہیں ان کا پورا نام لیتا رہا۔ایک میں ہی تو تھا ان کا پورا نام لینے والا۔۔۔۔۔


ہوش سنبھالنے کے بعد کی جو چند یادیں کچھ کچھ ذہن میں اٹکی ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر دو تین مہینے بعد عجیب النسا صبح ہی صبح کمرے کی الماری میں سے کچھ کاغذ نکالتیں اور پھر میرا ہاتھ پکڑ کے کہتیں چل سرٹیفکیٹ تڑوا لیں۔پھر ہم دونوں رکشے میں بیٹھ کر ایک دفتر میں جاتے اور ان سرٹیفکیٹوں کے بدلے نوٹوں کی ایک گڈی مل جاتی۔( نہ انھوں نے کبھی بتایا نہ میں نے پوچھا کہ ان سرٹیفکیٹوں کا پس منظر کیا ہے )۔
ہر دفعہ عجیب النسا کو سرٹیفکیٹ والے دفتر میں کوئی نہ کوئی جاننے والی مل ہی جاتی اور وہ اس کے کسی بھی غیر متوقع سوال سے پہلے ہی احتیاطاً شروع ہوجاتیں کہ یہ میرا سب سے چھوٹا بیٹا ہے ذوالفقار احمد خان۔ذہانت میں ماشاللہ بالکل اپنے نانا مولوی صاحب ذوالفقار احمد خان سری کوٹی پر گیا ہے۔اس دفتر سے ہم دونوں سیدھے میری نرسری جاتے اور نرسری کا کلرک نوٹوں کی تقریباً آدھی گڈی الگ کرکے رسید کاٹ دیتا۔


میں نے عجیب النسا کے پاس رہتے رہتے ایک روز ایم ایس کمپیوٹر سائنس بھی ( اول پوزیشن ) کرلیا اور آج ایک ملٹی نیشنل میں سادرن ریجن کا ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈویژن ہوں۔جس دن نوکری ملی عجیب النسا نے تقریباً دھکے ہی دے کر اپنے کمرے سے نکال دیا۔


’’ اب تو یہاں سے جا اور اس گھر میں جا کے رہ جو کمپنی نے تجھے دیا ہے‘‘۔

مگر آپ ؟

’’خبردار جو آگے ایک لفظ بھی کہا۔بس یہی میرا آخری گھر ہے اور مٹی بھی یہیں سے اٹھے گی‘‘۔
مگر میں نے عجیب النسا کو بڑی مشکل سے موبائل فون رکھنے پر آمادہ کر لیا۔ماتھا چومتے وقت پتلیاں گھماتے ہوئے کہنے لگیں تجھے میری اتنی فکر کیوں رہتی ہے ؟ یہ کوئی اچھی بات تو نہیں۔کل کو تیرے جورو بچے بھی ہوں گے، ان کی فکر کرنا سیکھ۔


دفتر سے گھر واپسی پر جب بھی ان کے پاس سے ہو کر جاتا تو کہتیں تیرے پاس دنیا میں اور کوئی کام نہیں کیا جو روزانہ مجھے دیکھنے چلا آتا ہے۔یہ بھانڈا تو بہت بعدمیں حسن سپروائزر نے پھوڑا کہ عجیب النسا تمہارے لائے کپڑے جوتے تمہارے جاتے ہی الماری سے نکال فوراً ساتھ کی عورتوں میں تقسیم کردیتی ہیں مگر تازہ انگریزی ناول اور پھول اپنے کنے ہی رکھتی ہیں۔


یہ سب اپنی جگہ مگر میں بہرحال مطمئن ہوں کہ عجیب النسا بنا محتاج ہوئے مرگئیں۔ اب اس دنیا میں کوئی نہیں جو جائے نماز کا کونہ موڑتے موڑتے میرے گال کھینچتا ہوا یہ دعائیہ طعنہ دے سکے کہ ،

خدایا ! حلالیوں کی ستائی ہر ماں کو ایسا حرامی بھی عطا فرما۔آمین۔

Tuesday, 6 May 2014

بیٹھک


آزاد کشمیر میں سُدن قبیلے کے جدِ امجد "نواب جسی خان" 1300ء میں براستہ قلات، ڈیرہ اسماعیل خان، جہلم اور راولپنڈی سے تڑالہ اٹھکورا(کوٹلی ھولاڑ) میں داخل ھوے اوریہاں قیام کیا اور بگڑوں کے خلاف جنگ کرکے شکست دی۔ نواب جسی خان کا مزار شریف جسہ پیر کے نام سے منگ کی بلند چوٹی المعروف جسہ پیر پر واقع ہے۔( قبائیل اکبریہ کشمیر و پا کستان مصنف کپٹین ایم اشرف خان)
تڑالہ میں اپنے قیام کے دوران نواب جسی خان نے لوگوں کے مسائل سنے اور ان سے ملاقات کے لیے جو بیٹھک قائم کی اور استعمال کی یہ اس کی تصویر ھے جس کے آثار آج بھی تڑالہ اٹھکورا(کوٹلی ھولاڑ) آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔

Thursday, 1 May 2014

"کپٹین کرنل شیر خان شہید شہید"



شہیدِ کشمیر
تحریکِ آزادیِ کشمیر کے عظیم قائد، شہیدِ کشمیر، شیرِ جنگ بہادر، فخرِ کشمیر کرنل شیر خان شہید نے 1947 میں مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف کشمیریوں کو یکجا کرتے ہوئے سب سے پہلے باقائدہ جنگ کا آغاز کیا۔ انہوں نے اپنی ذاتی زمین بیچ کر "5 AK Regiment" کی بنیاد رکھتے ہوئے مجاہدین کی گوریلا تربیت کی اور دشمن کو کہیں محاذوں پر شکستِ فاش دی۔ شیروں کی مانند دشمن سے نبرد آزما پونچھ محاذ پر جامِ شہادت نوش فرمایا۔
کرنل شیر خان شہید جب پونچھ کے محاذ پر جان کی بازی لگا کر امر ہوئے تو اُن کے سوابی سے تعلق رکھنے والے دوست غالب خان نے اپنے بیٹے کو وصیحت کی کے جب تمارے گھر بیٹا پیدا ہو تو اس کا نام تم نے کرنل شیر خان شہید کے نام پہ رکھنا ہے۔ غالب خان کرنل شیر خان شہید کے بہت قریبی ساتھی تھے اور وہ جانتے تھے کے یہ مردِ مجاہد صرف نام سے ہی شیر نہیں ہے بلکہ بہادری و شجاعت میں بھی شیرکو مات دیتا ہے۔ اور وہ چاہتے تھے کے ان کے خاندان میں بھی کرنل شیر خان شہید جیسا بہادر اور جری جوان پیدا ہو شاہد وہ نام کی تاثیر سے آگا تھے۔ جب غالب خان کے گھر پوتا پیدا ہوا تو کرنل شیر خان سے متاثر انہوں نے اس کا نام پورا "کرنل شیر خان شہید" ہی رکھ دیا۔ وقت کروٹ بدلتا رہا اور بل آخر غالب خان کا پوتا "کرنل شیر خان شہید" اپنے دادا کی امنگ بن کر پاک فوج میں بطور کپٹین بھرتی ہوا اور اُن کی خواہش کے احترام میں کارگل محاذ پر شجاعت و بہادری سے لڑھتے ہوئے کار ہائے نمایاں سر انجام دیے اور صحفہ قرطاس پر بہادری کے انمٹ نقوش ثبت کرتے ہوئے شہادت کے درجے پہ فائز ہوا اور حکومتِ پاکستان سے نشانِ حیدرکا اعزاز حاصل کیا۔ یہ پاک آرمی کا وہ واحد شہید ہے جس کے نا م میں ناصرف دو بار شہید آتا ہے بلکہ یہ کپٹین بھی ہے اور کرنل بھی۔ "کپٹین کرنل شیر خان شہید شہید"

Sunday, 27 April 2014

Leopard killed by Dogs

(Dogs killed a leopard in Tata Pani, Kotli, Pakistan Held Kashmir)
.محکمہ وائلڈ لائف کی ناائلی سے آزاد کشمیر میں جنگلی حیات شدید خطرہ کا شکار نظر آتی ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے کہیں ایسے واقعیات
رپورٹ ہوے ہیں جن میں چیتے کی ایک نایاب نسل آبادی کا رخ کر کے موت کو گلے لگا رہی ہے۔ اب کی بار ایک منفرد اور ناقابلِ یقین واقع پیش آیا جس میں تته پانی کوٹلی کے گاؤں بگاه میں دو کتوں نے مل کر ایک جنگلی چیتے کو اپنی خوراک بنا ڈالا۔

Leopard killed by Dogs


(Dogs killed a leopard in Tata Pani, Kotli, Pakistan Held Kashmir)
.محکمہ وائلڈ لائف کی ناائلی سے آزاد کشمیر میں جنگلی حیات شدید خطرہ کا شکار نظر آتی ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے کہیں ایسے واقعیات 
رپورٹ ہوے ہیں جن میں چیتے کی ایک نایاب نسل آبادی کا رخ کر کے موت کو گلے لگا رہی ہے۔ اب کی بار ایک منفرد اور ناقابلِ یقین واقع پیش آیا جس میں تته پانی کوٹلی کے گاؤں بگاه میں دو کتوں نے مل کر ایک جنگلی چیتے کو اپنی خوراک بنا ڈالا۔