Sunday 27 April 2014

Leopard killed by Dogs

(Dogs killed a leopard in Tata Pani, Kotli, Pakistan Held Kashmir)
.محکمہ وائلڈ لائف کی ناائلی سے آزاد کشمیر میں جنگلی حیات شدید خطرہ کا شکار نظر آتی ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے کہیں ایسے واقعیات
رپورٹ ہوے ہیں جن میں چیتے کی ایک نایاب نسل آبادی کا رخ کر کے موت کو گلے لگا رہی ہے۔ اب کی بار ایک منفرد اور ناقابلِ یقین واقع پیش آیا جس میں تته پانی کوٹلی کے گاؤں بگاه میں دو کتوں نے مل کر ایک جنگلی چیتے کو اپنی خوراک بنا ڈالا۔

Leopard killed by Dogs


(Dogs killed a leopard in Tata Pani, Kotli, Pakistan Held Kashmir)
.محکمہ وائلڈ لائف کی ناائلی سے آزاد کشمیر میں جنگلی حیات شدید خطرہ کا شکار نظر آتی ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے کہیں ایسے واقعیات 
رپورٹ ہوے ہیں جن میں چیتے کی ایک نایاب نسل آبادی کا رخ کر کے موت کو گلے لگا رہی ہے۔ اب کی بار ایک منفرد اور ناقابلِ یقین واقع پیش آیا جس میں تته پانی کوٹلی کے گاؤں بگاه میں دو کتوں نے مل کر ایک جنگلی چیتے کو اپنی خوراک بنا ڈالا۔ 

Saturday 26 April 2014

ایثار


دوسروں کے ساتھ ایثار اور احسان کا برتاو اہل اسلام کی پہچان رہا ہے۔ اس کے مختلف اظہار آج بھی مسلم دنیا میں سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن کینیڈا میں دوران سفر ایک مسلمان مسافر نے جوتوں سے محروم شخص کو جس طرح اپنے جوتے پیش کر دیے، کم ازکم مغربی دنیا میں اس طرح کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کی وضع قطع رکھنے والے ایک باریش شخص نے بس پر سفر کے دوران دیکھا کہ بس میں موجود ایک شخص نے جوتوں کی جگہ اپنے پاوں کو بالوں سے بنی ایک جالی میں لپیٹ رکھا ہے اور اس کا لباس بھی زیادہ اچھا نہیں ہے۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ اس مفلوک الحل شخص کے پاس پہننے کیلیے جوتے نہیں ہیں۔ اپنی منزل پر پہنچ کر بس سے اترنے سے پہلے باریش مسلمان نے اپنا جوتے اتار کر اس جوتوں کے بغیر شخص کو پیش کر دیے اور کہا کہ ''میں نے قریب ہی جانا ہے ،میں پیدل چلتے ہوئے یہ مختصر سا سفر آسانی سے جوتوں کے بغیر طے کر سکوں گا۔ '' بس کے ایک آف ڈیوٹی ڈرائیور نے یہ عمل اپنے کیمرے سے محفوظ کر لیا. تصویر بنانے والے آف ڈیوٹی ڈرائیور سرجیت سنگھ ورک کا کہنا ہے باریش مسلمان نے اپنے جوتے کے ساتھ اپنی جرابیں بھی دوسرے شخص کو بن مانگے پیش کیں اور جلدی سے بس سے اتر گیا۔ اس دوران بس اتنا کہا ''آپ یہ جوتے پہن سکتے ہیں، پریشان نہ ہوئیے گا میں قریب ہی رہتا ہوں، میں ننگے پاوں جا سکوں گا۔'' سرجیت سنگھ ورک کے بقول یہ کہہ کر بس سے اترنے کی کی اور جوتا وصول کرنے والے شخص کو شکریہ کرنے کا بھی موقع نہ دیا۔ دوسرے مسافر یہ منظر دیکھتے ہی رہ گئے کیونکہ وہ تو اس مفلوک الحال شخص کے ساتھ بیٹھنے کو بھی تیار نہ تھے۔ کہ اس کا لباس گدلا اور بوسیدہ تھا۔ یہ تصاویر سوشل میڈیا پر سامنے آئیں تو ایک مقامی خبر رساں ادارے نے اس مسلمان مسافر سے رابطہ کیا اور جوتا دوسرے کو دے دینے کی وجہ دریافت کی۔ یقینا کینیڈا میں ایسا کرنا خبر تھا۔ مسلمان نے خبر رساں اداے کو بتایا '' مجھے یہ بہت برا محسوس ہوا کہ ایک شخص ننگے پاوں ہے اور اس کے پاس غربت کی وجہ سے جوتے نہیں ہیں، میں نے بس سے اترنے کے بعد صرف دو منٹ کا پیدل سفر طے کرنا تھا اس لیے میں اپنا جوتا اسے گفٹ کر دیا۔'' خبر رساں ادارے کے مطابق جوتا تحفے کے طور پرپیش کرنے والا مسلمان قریب ہی قائم مسلم ایسوسی ایشن مسجد سے واپس گھر آ رہا تھا۔ اس بارے میں مسجد کے ترجمان مفتی عاصم نے کہا '' ہم مسلمان جب بھی کوئی اچھائی کرتے ہیں تو مقصد اللہ کی خوشنودی کا حصول ہوتا ہے۔ ''
 (siasat.pk)
اللہ ہمیں اپنی مالی اور روحانی آسودگی میں دوسروں کوبھی شامل کرنےکی توفیق عطاء فرمائے۔ امین

Friday 25 April 2014

Kashmir War 47 Martyrs


فاتح میر پور, کشمیر

کپٹین خان محمد خان المعروف خان آف منگ دھرتی کے وہ ثپوت ہیں کے جن پر جتنا رشک کیا جائے کم ہے۔ جس محاذ کا رخ کیا سر خرو ٹھہرے۔ جنگِ آزادیِ کشمیر 1947ء میں آپ کو میر پور محاذ پر تعینات کیا گیا۔ جہاں ڈوگرہ فوج سے مقامی لوگ نبرد آزما تھے۔ آپ نے تمام لوگوں کو منظم کیا اور ڈوگرہ فوج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ آپ کی بہادری اور جان فروشی کو دیکھ کر لوگوں میں ایک نئے جذبے نے انگڑائی لی اور وہ جذبہ شہادت سے چور جان ہتھیلی پر لیے اپ کی کمانڈ میں ڈوگرہ فوج سے ایسے دیوانہ وار ٹکرائے کے اسے عبرت ناک شکست سے دوچار کرتے ہوئے میرپور کو فتح کر لیا اور اسی نسبت سے خان آپ منگ کو فاتح میر پور کے لقب سے نوازا گیا۔
 تاہم جنگِ آزادیِ کشمیر کے بعد کے حالات سے خان صاحب خوش نہیں تھے مہاراجہ/کشمیری عوام سے مائده قائمہ کے تحت ہی ایک آزاد ریاست کے قیام کا وعدہ ہوا تھا  جبکہ تحریکِ آزادی کشمیر کے بعد آزاد کشمیر میں اس کے برعکس پاکستان نے کشمیریوں کو مزید غلامی میں دھکیل دیا تھا۔ اور اسی وجہ سے 1952ء میں بھی سدھن مسلم وار کے نام سے ایک بغاوت بھی ہو چکی تھی جسے پاکستان نے افواجِ پاکستان کی مدد سے دبا دیا تھا (اس جنگ کی تفصیل آیندہ کسی پوسٹ میں اپلوڈ کی جائے گی )۔ جپ ایوب خان صدرِ پاکستان بنے تو خان صاحب اس کی دعوت پر اسے ملنے پاکستان تشریف لے گئے۔ وہاں کشمیر کے ایشو پر بات چیت ہوئی تو صدر پاکستان نے کوئی تسلی بخش جواب دینے کے آپ کو اپنی کابینہ میں شمولیت کی دعوت دی محصوص عسکری تربیت کی وجہ سے خان صاحب کو اس کی یہ پشکش پسند نہ آئی شدید غصے میں ایوب خان کی دعوت یہ کہہ کر مسترد کر دی کے تم قائدِ عظم کی سیٹ پر بیٹھنے کے حق دار نہیں۔ لہذا اپنی کرسی میرےلیے خالی کرتے ہوئے خود میری کابینہ میں شامل ہو جاو۔ تلخی بڑتی رہی اور جب کوئی حل نکلتا محسوس نہ ہوا تو خان صاحب نے ایوب خان پر واضع کر دیا کے ان حالات میں آزاد کشمیر کے لوگ پاکستان کے ساتھ نہیں رہے سکتے اور وہ واپسی پر پاکستان کے خلاف نہ صرف بغاوت کروئیں گئے بلکہ خود قیادت کریں۔ اس پر ایوب خان نے آپ کو ہری پور جیل میں پابندِ سلاسل کر دیا۔
خان صاحب آزادکشمیر کی حکومت اور حکمرانوں سے سخت خائف تھے ان کا موقف تھا کہ ہم نے ایسی بدترین غلامی کے لیے اپنی جانیں قربان نہیں کی تھی کے جس میں ہم اپنے نمائندے بھی خود نہ چن سکتے ہوں اور پاکستانی حکومت اپنی مرضی سے جب چائے جسے چائے تخت پر بیٹھا دے یا گرا دے۔ وُہ ایک آزاد ریاست کے حامی تھے جس میں پاکستان کا کردار ثانوی نویت کا ہوتا۔ 

Friday 18 April 2014

طنز و مزاح

طنز و مزاح
یہ بات سہنہ بہ سہنہ مجھ تک پنہچی ہے۔ اپ اس بارے کیا رائے رکھتے ہیں ۔۔ ؟اس سے ملتا جلتا کوئی واقعہ جو اپ نے سنا ہو؟

کہتے ہیں کے پونچھ کے لوگ نمبرداروں کو مالیہ دینے سے اکثر انکار کر دیا کرتے تھے۔ مہاراجہ اس بات سے سخت سیخ پا ہوتا تھا اور فورا اپنی فورس بھیچ کر مالیہ نہ دینے والوں کو دربار حاضر کر لیتا تھا۔ جہاں پہنچ کر یہ لوگ مہاراجہ کو یقین دہانی کروا آتے تھے کے آیندہ اسے شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ مگر اگلی دفعہ پھر ایسا ہی ہوتا۔ مہاراجہ نے اپنے مشیران سے پوچھا کے مہاجرہ کیا ہے جب یہ لوگ ادھر ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کے مالیہ جمع کروایں گئے مگر وہاں پہنچ کر بدل جاتے ہیں۔ :/مہاراجہ کا ایک مشیر عجیب منتق لے کر یوں گویا ہوا کہ قصور ان لوگوں کا نہیں ہے۔ قصور پونچھ کی مٹی کا ہے۔  وہ مٹی ایسی ہے کے اس پر قدم رکھو تو بغاوت روح تک سرایت کر جاتی ہے۔  چناچہ مہاراجہ نے اس عجیب منتق کو پرکھنے کا فیصلہ کیا اور پونچھ کی مٹی منگوا کر بوریوں میں بھر کے رکھ دی اور پونچھ (روالاکوٹ وغیرہ ) سے جہنوں نے مالیہ ادا نہیں کیا تھا دربار حاضر کیا۔ اور پوچھا کے تم لوگ مالیہ کیوں نہیں دیتے ہو؟ بعد از وجوہات لوگوں نے کہا کے اب ہم ہر صورت مالیہ باقائدگی سے جمع کروا دیا کریں گئے۔
مہاراجہ :۔ نےمتعدد بار پوچھا کہ پکی بات ہے ۔۔۔ ؟ پھر مکر تو نہیں جاو گئے وہاں پنہچ کر۔۔ ؟
لوگ :۔ نہیں اب کی بار ایسا ہر گز نہیں ہو گا 
مہاراجہ :۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تم لوگ پہلے بھی ایسا کہہ کر گئے تھے مگر کیا اس کے بر عکس۔ 
لوگ:۔ سرکار اب کی بار آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔  ( مہاراجہ کا بار بار استفسار ان کی پیشانی پر شکن ڈال رہا تھا اور مشکل سے اپنے غصے پر قابو کیے ہوئے تھے)
مہاراجہ :۔ اچھا ایسا کرو ان بوریوں کے اوپر چڑھ جاو .. !
لوگ:۔ دل میں اطمینان محسوس کرتے ہوئے کے چلو جان چھوٹی ۔۔ یقین کر لیا مہاراجہ نے اور بوریوں پر چڑھ گئے۔ 
مہاراجہ:۔ اچھا تو بات یہ ہے کہ مجھے ابھی تک تماری بات پہ یقین نہیں آیا تھا اس لیے ایک دفعہ پھر بتاو کے مالیہ دو گئے یا پھر انکار کر دو گئے۔ 
لوگ:۔ زچ ہو کر  ۔۔۔ نہیں دیں گئے۔ 
مہاراجہ :۔ حیرت اورتحسین بھری نظروں سے اپنے مشیر کو دیکھنے لگا۔ 
( مہاراجہ کے بار بار پوچھنے پر وہ اتنے تنگ ہو گئے تھے کے غصے میں منہ سے "نہیں دیں گئے" نکل گیا اور یوں یہ بات مشہور ہو گئی کے پونچھ کی مٹی میں بغاوت ہے)